Taliban Aur Alqaida
By Ahsan Ali • Jul 29th, 2008 • Category: Politics (Urdu) • (3,649 views) • No Responsesپاکستان گورمنٹ طالبان سے امن معایدہ کر رہی ہے؛ میرا سوال یہ ہے کہ جناب معایدہ تو وہاں ہوتا ہے جہاں مقابل فریق طاقتور ہو یا برابر ہو؛ آیا طالبان پاکستان گورمنٹ اور پاکستان آرمی سے کتنی طاقتور ہے کی پاکستان حکومت انسے معایدہ کر رہی ہے۔ پاکستان کے پاس ماشااللہ کافی طاقت اور فوج ہے جو کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کر سکتی ہے پھر ایسی کیا بات ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات اور امن معاہدے کر رہی ہے۔ آخر وہ کونسے عناصر ہیں جوحکومت کو ایسا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ پڑھا سنا یہی ہہ کہ پاکستان میں مرکزی حکومت ہے لیکن طالبان سے معایدے پشاور حکومت کر رہی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کسکی ہے؛
ہم طالبان کے خلاف آپریشن فرنٹیر کانسٹیبلری سے کرا رہے ہیں اور خبر یہی ملتی ہے کہ ایف۔ سی کے جوانوں سے چوکی خالی کرا لی گءی اور طالبان نے چوکی پہ قبضہ کر لیا۔ لگتا توایسا ہے کہ ہماری ایف ۔ سی اور پولیس بھی طالبان سے ملی ہوی ہے کیونکہ ایک بھای طالبان میں ہے اور دوسرا سیکیورٹی فورس میں؛ آخر بھای توبھای پر گولی نہیں چلایگا یہ بات تو حکومت کو سوچنی چاہیے۔ نہ تو طالبان کے پاس توپیں ہیں نہ ٹینک اور نہ ہی کوی ہوای جہاز؛ پھر ھماری گورمنٹ کا طالبان سے ڈرنا سمجھ نہیں آتا۔
ہمارے اپنے ملک کے میڈیا پر طالبان کے لیڈرز کے انٹرویو چلتے ہیں؛ انکے نمایندوں کے بیانات آتے ہیں۔ سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ طالبان تک ہماری فورسزز نہیں پہنچ سکتیں لیکن صرف ہمارا میڈیا وہاں تک پہنچتا ہے اور وہاں تک پہنچنے تک کی ہمیشہ سے جو داستان سنای جاتی ہے وہ اتنی ہی جھوٹی ہے جتنا کہ ہمارا میڈیا؛ کیونکہ سنانے والا بھی ہمارا میڈیا ہے۔ پتا نہیں جب بھی امریکہ کے صدارتی انتخابات نزدیک آتے ہیں ہمارے میڈیا سے القاعدہ کے بارے میں کچھ نہ کچھ ایسا نشر ہوتا ہے جو آنے والے امریکی صدر کے کام آتا ہے جیسا کہ
2004 کے صدارتی انتخابات سے پہلے پاکستان کے ایک نجی چینل نے القاعدہ کے ایک اہم رکن کا انٹرویو نشر کیا اور اس بار بھی اسی چینل نے افغانستان جا کہ ایک القاعدہ کے ایک لیڈر کا انٹرویو نشر کیا وہ بھی اس وقت کہ جسوقت ممکنہ امریکی صدر افغانستان کا دورہ کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف بیان دے رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آی کہ آخر دنیا کے اتنے بڑے نیوز چینلز کو چھوڑ کہ صرف پاکستان کے اسی چینل کو ہی القاعدہ کیوں استعمال کرتی ہے۔ اس بار جب ان صحافی موصوف سے پوچھا گیا کہ آپ کسطرح انٹرویو لینے سے مستفید ہوے تو جواب آیا کہ مجھے کراچی جامعہ کے ایک فلسطینی طالبعلم نے میرا رابطہ کرایا اور میں انٹرویو لینے کا ایک اہم فریضہ سرانجام دیا۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ پہلے اس فلسطینی طالبعلم کو پکڑنا چاہیے اور اس سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے کہ تمہارے القاعدہ سے کیسے رابطہ ہے۔ مجھے تو یہ بات سمجھ نہی آتی کہ آخر امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ہی ایسے بیانات اور انڑویو کیوں نشر ہوتے ہیں؛ ان انٹرویو اور بیانات کے نشر کرنے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اور انکا فاعدہ کسکو ہو رہا ہے۔ یہ بات سوچنا ہمارا کام ہے کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس ملک میں ہم نے ہی رہنا ہے۔
Last 5 posts by Ahsan Ali
- مداری - July 22nd, 2008
Trackback URL
|
|
|
Ahsan Ali
Email this author | All posts by Ahsan Ali
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
























