The Pakistani Spectator

A Candid Blog

Dressing Down of Aitzaz in PPP CEC

By Fatima Tassaduq • May 25th, 2008 • Category: Politics • (3,159 views) • 4 Comments

President of Pakistan Supreme Court Chaudhry Aitzaz Ahsan should once again temporarily leave Pakistan People Party once again as he did in the past and joined Tehrik-e-Istaqlal of Air Marshal Asghar Khan. Yesterday he was bawled out quite severely by the members of the Central Executive Committee and Asif Ali Zardari himself.

Many members were of the opinion that Aitzaz Ahsan was installing himself as the replacement of the PPP leadership and he wasn’t in sync with the PPP’s stand upon the judiciary. While most of the members were against Aitzaz Ahsan over his stand on deposed chief justice Iftikhar Mohammad Chaudhary, they were found supporting him on the issue of ouster of Pervez Musharraf.

But Aitzaz Ahsan came down with a thud and shocked all by his stern and calculated arguments. He also accused Asif Ali Zardari of double standards and his reliance on non-elected members like Rehman Malik, Farooq H. Naek and Sherry Rehman. Aitzaz Also warned Zardari that he could destroy the party with this approach.

This was followed by an ugly exchange of arguments between Aitzaz Ahsan and Zardari&co, and Aitzaz left the CEC early and didn’t even bid farewell to anyone. Latter it was found that he was quite dismayed at the Minus One Formula, and he also rejected it in the Faisalabad.

Aitzaz Ahsan should now just remain President of Pakistan Supreme Court for the time being.

Last 5 posts by Fatima Tassaduq

These icons link to social bookmarking sites where readers can share and discover new web pages.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google
  • Fark
  • Furl
  • Live
  • Netvouz
  • NewsVine
  • SphereIt
  • TailRank
  • Technorati
  • TwitThis
  • Ma.gnolia
  • Reddit
  • YahooMyWeb

Trackback URL
Tagged as: , , , , , , ,

Related Posts





Fatima Tassaduq
Email this author | All posts by Fatima Tassaduq
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.

4 Responses to “Dressing Down of Aitzaz in PPP CEC”

  1. 1
    Kheshgi Says:

    Not that I care one way or the other but any party in Pakistan will benefit if hypocrates and trouble makers like Aitzaz leave the party for good !

  2. 2
    Aashique of Musharraf Says:

    Ch. Iftikhar failed attempt

    رضا ہمدانی
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اس بار پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء نےشرکت نہیں کی
    معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سنیچر کے روز اسلام آباد سے فیصل آباد بار سے خطاب کرنے کے لیے مقررہ وقت سے کہیں دیر سے نکلے۔ میڈیا کو اس سفر کا بے چینی سے انتظار تھا کہ کب پچھلے سال اپریل جیسا سفر ایک بار دوبارہ شروع ہوتا ہے۔
    چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں معزول چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر وکلاء کی آمد ہوتی رہی اور نعرے بازی میں وقتاً فوقتاً تیزی آتی گئی اور میڈیا کی توجہ ان کی طرف مرکوز ہو جاتی تھی۔

    ماضی کے مقابلے میں آج سول سوسائٹی کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہی چند چہرے نظر آئے جن کی امیدیں معزول چیف جسٹس سے وابستہ ہیں یعنی کہ لا پتہ افراد کے چند خاندان اور ڈیفنس بار ہیومن رائٹس کے کنوینر خالد خواجہ۔

    سول سوسائٹی کے چند افراد کے علاوہ تقریباً دو سو افراد پر مشتمل پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکن وہاں موجود تھے جو کہ معزول چیف جسٹس اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے حق میں اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے تھےاور ان ہی کی موجودگی سے ٹھنڈے ماحول میں نسبتاً گرمی آئی۔

    مسلم لیگ نون کے علاوہ اچھی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی بھی تھی جنہوں نے اپنی گاڑیوں پر بڑے بڑے سپیکرنصب کر کے انقلابی غزلیں اور ملی نغمے لگا رکھے تھے۔

    صحافیوں اور وکلاء برادری میں سے کئی کا خیال تھا کہ سنہ دو ہزار سات اپریل کےمقابلےاس بار وکلاء کی تعداد کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء نےشرکت نہیں کی ہے۔

    چیف جسٹس کا قافلہ
    موٹروے پرمعزول چیف جسٹس کا قافلہ کئی جگہ رکا اور خیرمقدمی جلوس بھی تھا لیکن صرف کلر کہارپر ایسا ہجوم تھا جس کو آپ خیر مقدمی جلوس کہہ سکتے ہیں۔ باقی مقامات پر کہیں پچاس تو کہیں زیادہ سے زیادہ سو افراد موجود تھے

    وہاں پر موجود کمیونسٹ کسان پارٹی کے کارکنان نے کہا کہ وہ معزول چیف جسٹس کا ساتھ اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اس ملک کو اس سمت میں لے کر جائیں گے جو ان کی سوچ سے مناسبت رکھتی ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کے ایک مقامی لیڈر نے بھی معزول چیف جسٹس کا ساتھ کچھ انہیں وجوہات پر دینے کے بارے میں کہا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن وہاں موجود تھے جنہوں نے اپنا تعارف اعتزاز احسن کے حامی کے طور پر کرایا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی جماعت کے دیگر افراد نظر نہیں آ رہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ان افراد میں سے ہے جو ہیں تو پیپلز پارٹی کے کارکن لیکن سوچ اعتزاز احسن والی ہے۔

    معزول چیف جسٹس گیارہ بجے کے بجائے ساڑھے تین بجے اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے تو کثیر تعداد میں گاڑیوں کا ایک قافلہ بن گیا اور ان کا پہلا پڑاؤ اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے پر گولڑہ موڑ تھا۔

    یہاں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کاکرکن ایک بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ساتھ گھوڑوں کا رقص بھی تھا۔

    موٹروے پر اگرچہ معزول چیف جسٹس کا قافلہ کئی جگہ رکا اور خیرمقدمی جلوس بھی تھا لیکن صرف کلر کہارپر ایسا ہجوم تھا جس کو آپ خیر مقدمی جلوس کہہ سکتے ہیں۔ باقی مقامات پر کہیں پچاس تو کہیں زیادہ سے زیادہ سو افراد موجود تھے۔ تاہم موٹر وے پر جہاں بھی رکے وہاں پر مسلم لیگ نون کے کارکن ہی نظر آئے۔

    مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کاکرکنوں نےان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں

    کلر کہار پر ایسا معلوم ہوا جیسے اس قافلے میں جان پڑ گئی ہو کیونکہ وہاں اعتزاز احسن معزول چیف جسٹس کے قافلے میں شامل ہو ئے۔ اعتزاز اور معزول چیف جسٹس ایک دوسرے سے بڑی گرمجوشی سے ملے اور آس پاس کھڑے تمام افراد کے چہروں پر خوشی کی لہر آ گئی۔

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے کی وجہ سے اسلام آباد سے معزول چیف جسٹس کے ہمراہ نہ تھے۔ اگلے ہی انٹر چینج پر لوگوں سے اعتزاز احسن نے اپنے جوشیلے انداز میں خطاب کیا اور نعرے لگوائے۔

    وکلاء اپنی کامیابی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے موٹروے پر ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے اور اس کوشش میں تھے کہ ان کی گاڑی معزول چیف جسٹس کی گاڑی کے عین پیچھے ہو۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سخت مشلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بھی اس قافلے کی سست رو رفتار میں پھنس گئے تھے۔

    تقریباً سات گھنٹے کے سفر کے بعد فیصل آباد میں داخل ہونے پر معزول چیف جسٹس کے استقبال کے لیے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ فیصل آباد کے ٹول پلازہ پر موجود تھے۔ آتش بازی اور نعروں کے درمیان معزول چیف جسٹس کسی چیف جسٹس کی طرح نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنما کی طرح فیصل آباد میں داخل ہوئے۔

  3. 3
    Aashique of Musharraf Says:

    جسٹس چوہدری کا سفر ٹھنڈا رہا

  4. 4
    Aftab S. Alam Says:

    When the chief jusice is made to act and behave like a political agitator then people are justified in being critical about the cause and intent of this whole campaign.

Leave a Reply