عسکریت بمقابلہ ذہنی غلامی
By NKhan • Apr 18th, 2008 • Category: Politics (Urdu) • 3 Comments •
| افغانستان پر امریکی قبضہ ہے۔ حامد کرزئی کابل کے میئر ہیں۔ افغانستان میں کرزئی کی صورت میں براہِ راست امریکا کی حکومت ہے۔ یہ چند حقائق ہیں جن سے اختلاف ممکن نہیں۔ تاہم چند حقائق اور بھی ہیں۔ پاکستانیوں کی قسمت کا فیصلہ واشنگٹن میں ہوتا ہے۔ جنرل پرویز نے ایک دھمکی آمیز فون کال پر امریکا کا ساتھ دیا۔ مملکت ِخداداد پاکستان کی دو ”بڑی“ جماعتوں کے قائدین بھی انتخابات سے قبل امریکا کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کالموں اور بیانات کے ذریعے امریکا سے التجا کررہے تھے کہ ان کو اپنے کام کے لیے منتخب کیا جائے۔ اب بھی پُرعزم ہیںکہ جنرل پرویزمشرف کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اپنوں کے خلاف ”جنگ جاری رہے گی“۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کے حکمران امریکا کے ایجنٹ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ امریکا براہِ راست افغانستان پر قابض ہے۔ دوسری طرف پاکستان پر بظاہر امریکی قبضہ نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو ”عوام“ نے ”ووٹ“ کے ذریعے منتخب کیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی (پہلی اسلامی) حکومت ختم کردی گئی۔ چند لوگوں کی داڑھیاں منڈوادی گئیں۔ شیو کروائی گئی۔ چند عورتوں کے برقعے اتروا لیے گئے۔ بتایا گیا کہ طالبان وحشی تھے، زبردستی کرتے تھے، ان کے جاتے ہی لوگوںکو آزادی مل گئی۔ انہوں نے داڑھی اور برقعہ کی صورت میں نظر آنے والی دقیانوسیت کو خیرباد کہہ دیا۔ کرزئی صاحب مسند ِ اقتدار پر براجمان ہوگئے۔ اسلام کی طرف جھکاﺅ نہ رکھنے والے شمالی اتحاد، کمیونسٹ اور سیکولرسٹ حکومت کا حصہ بن گئے۔ پہلی بار ایک خاتون پارلیمنٹ تک پہنچی۔ ہم افغانستان سے آنے والی دو خبریں یہاں نقل کریں گے لیکن اس سے قبل چند باتیں اور: پاکستان شروع سے ہی امریکا کا اتحادی رہا۔ یہاں نگران بھی آئے تو امریکا سے آئے، ووٹوں سے منتخب ہونے والوں نے بھی ووٹرز پر اعتماد نہیں کیا بلکہ وہ بیک وقت جلسوں میں عوام سے اور بیانات اور کالموں میں امریکا سے ووٹ مانگتے رہے۔ 2002ءکے عام انتخابات میں پہلی دفعہ عوام نے امریکا کو شکست دی۔ مذہبی قوتوں کو کامیاب کرایا۔ لیکن اقتدار کی کرسی پاﺅں کی زنجیر بن گئی۔ طالبان کا نام لیتے ہوئے شرم آئی۔ جہاد کا نام لینے سے کترائے۔ حفاظ ِقرآن پر گیس پھینکی گئی، زندہ جلایا گیا‘ ہم کچھ نہ کرسکے۔ باجوڑ سے وانا تک بغیر تنخواہ کے پاکستانی سپاہیوں کے معصوم بچوں کو مارا گیا، ہم بے بس رہے۔ حدوداللہ کو ختم کیا گیا‘ اس کی جگہ خلاف ِقرآن قانون سازی کی گئی ہم اسے روک نہ سکے۔ ملک کے اخبارات اور ٹی وی چینلز توہینِ اسلام کے مرتکب ہوتے رہے ہم کچھ نہ کہہ سکے۔ پاکستان کے ایک اخبار میں پاکستانی ماڈل اور اداکارہ نے ملعون رُشدی کو اپنا آئیڈیل قرار دیا۔ ماڈلز نے کپڑوں کے نام پر چند دھجیاں لپیٹ کر حوا اور آدم ؑ کا کردار ادا کیا۔ ایسی کتنی چیزیں ہیں جو ہوئی ہےں۔ ہم آواز نہ اُٹھا سکے‘ ہم نہ روک سکے۔ ہمیں ہالینڈ کا خیرت ویلڈرز تو نظر آتا رہا ہے لیکن پاکستانی خیرت اور رشدی نظر نہیں آتے۔ ایسا کیوں نہیں ہوسکا؟ آپ اس پر سوچےں‘ ہم یہاں دو خبریں نقل کرتے ہیں۔ پہلی خبر پرانی ہے۔22 جنوری کو افغانستان کے ”جہانِ نو“ سے تعلق رکھنے والے افغان صحافی23 سالہ پرویز کام بخش کو توہینِ رسالت کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ مغرب کے ذرائع ابلاغ نے اس پر بہت شور مچایا لیکن افغان عدالت نے کوئی معذرت نہیں کی۔ دوسری خبر نیوز ایجنسی ”اے پی پی“کے حوالے سے 7اپریل کے روزنامہ جسارت میں چھپی ہے، جس کے مطابق افغان حکومت نے بھارت کی ثقافتی یلغار کو روکنے کے لیے سخت اقدام اٹھاتے ہوئے مختلف بھارتی چینلز کے6 پروگرام نشر کرنے پر پابندی عائد کردی۔ ان میں ”کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی“ ”کہانی گھر گھر کی“ اور کسوٹی زندگی کی“ جیسے پروگرام شامل ہیں جو پاکستانی گھرانوں میں بہت مقبول ہیں۔ افغان وزارت ِثقافت نے ان پروگراموں کو غیر اسلامی اور مخرب اخلاق قرار دیتے ہوئے مقامی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ 15اپریل سے انہیں نشر نہ کیا جائے۔ پابندی کی زد میں آنے والے یہ پروگرام پشتو اور فارسی میں ڈب کرکے آریانہ، طلوع اور شمشاد نامی چینلز پر چلائے جارہے ہیں۔ ان چینلز کو خبردار کردیا گیا ہے کہ اگر 15اپریل کے بعد مذکورہ پروگرام دکھائے گئے تو ان کے خلاف سخت کارورائی کی جائے گی۔ پاکستان میں اس وقت کئی سینماﺅں پر بے ہودہ بھارتی فلمیں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں سے چند تو ایسی ہیں جن کی کہانی بیان کرنے کے لیے مناسب الفاظ تک نہیں مل رہے ہیں۔ اور ”کہانی گھر گھر کی“ ،”ساس بھی کبھی بہو تھی“ نے تو ہمارے گھروں پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں کہ پاکستانی گھروں میں ڈراموں کے وہی کردار آپ کو نظر آئیں گے۔ نظر کیوں نہ آئیں! بھارت کے ساتھ دوستی کے لیے تو استدلال یہی پیش کیا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کی ثقافت ایک ہے۔ نوازشریف بھی فرما رہے ہیں کہ عوام کا آنا جانا بڑھ گیا تو مسئلہ کشمیر سمجھو حل ہوگیا۔ افغانستان اور پاکستان میں یہ فرق کیوں ہے؟ اس کا جواب مفکر اسلام سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی کتاب ”تنقیحات“ کے باب اول میں ملتا ہے۔ افغانستان پر امریکا کا عسکری غلبہ ہے لیکن ہم ذہنی غلام ہےں۔آخر |
Last 5 posts by NKhan
- Ethnic Clash or War between members of Land Mafia? - November 28th, 2008
- Operation LionHeart - November 25th, 2008
- Story of Yasmeen : Wadaira Shahi Exposed - November 13th, 2008
- For whom is EU mission working? - April 29th, 2008
- Zardari the Great Madari - April 17th, 2008
Trackback URL
|
|
|
NKhan
N Khan is a Karachi based journalist and columnist. He has grown up in the most troubled province of Pakistan, NWFP. After graduating from his home town Mardan, he moved to Karachi and got master degree from Karachi University.
Email this author | All posts by NKhan
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.








in which newspaper i can fin this column
in which newspaper i can find this column . it is v important for me to know , plz let me know
The column was published in daily Jasarat Karachi….www.jasarat.com